Wednesday, May 14, 2008

ججوں کی بحالی یا عوام کی بے حالی

ججوں کی بحالی یا عوام کی بے حالی

ہم یہ نہیں جانتے کہ جج بحال ہوتے ہیں کہ نہیں مگر عوام بے حال ضرور ہو رہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت لگتا ہے اپنا 5 سالہ دور صرف ججز کی بحالی میں صرف کرنا چاھتی ہے۔ اور ملک کے حالات کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ مھنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوئی پالیسی نہیں بن رہی۔ سارا زور صرف جج بحال کرنے میں لگا رہے ہیں اور جن لوگوں(عوام) نے ملک کی ترقی کے لیے محنت کرنا ہوتی ہے اس کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا۔ کن ججز کی بحالی کی بات ہو رہی ہے یہ وہی ہیں جن کی عدالتوں میں کیس سال ہا سال چلتے ہیں ایک غریب آدمی ساری زندگی انصاف کے لئے گزار دیتا ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا اور تو اور بہت سے لوگوں کے کیسز کی باری ان کے مرنے کے بعد آتی ہے۔

اے ہمارے حکمرانو! اپنی سوچ تم نے چند ججز کی بحالی پہ لگا رکھی ہے۔ مگرعوام بد حال ہو رہی ہے۔ بدحال عوام کو انصاف نہیں مل رہا اس کا بھی کچھ سوچو۔ جس عوام کے پیٹ کو انصاف نہیں ملے گا اس کے لئے ان ججوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

مہنگائی ختم کرو اے حکمرانو مہنگائی ختم کرو نہیں تو اقتدار چھوڑ دو

Read more...

Tuesday, May 6, 2008

ہمارا پاکستان

ہمارا پاکستان

مہنگائی ہمارے ملک میں اژدھے کی طرح غریب عوام کو نگل رہی ہےہماری حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے کسی بھی ملک میں عوام کی بنیادی ضروریات کو چھیڑا نہیں جاتا بلکہ بنیادی ضروریات کو اور بہتر بنایا جاتا ہے۔آج بھی دیکھیں دوسرے ممالک میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی چیزیں باآسانی اور سستی مل جاتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ایک عرصہ دراز سے نہیں ہوا یہ کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں ہیں ۔ یہ آپ سب لوگ اور ہماری حکومت بھی جانتی ہے۔

ایک ہمارا ملک ہے جس میں ہمیں ہماری بنیادی ضروریات پہ ہی مارا جا رہا ہے۔ آٹے کی قلت ۔ ناکس پانی اور اس کی بھی کمی۔گیس پرابلم کمیونیکیشن مہنگی بجلی کا مسئلہ ٹیکسز ہر چیز میں 50 سے 80 فیصد لاگو ہوتے ہیں ۔ ان سب کے باوجود ہمارا معیارِ زندگی روز بروز گرتا جا رہا ہے۔

ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اور آج ہمارے ہی ملک میں آٹا ملنا مشکل ہے۔ گندم کا سٹاک کر لیاگیا۔ اور کہاگیا کہ گندم ایکسپورٹ کر دی گئی ہے۔ اور پھر وہی گندم سٹاک سے نکال کر یہ بتایا جاتا ہے کہ گندم خریدی گئی ہے اور وہ بھی 5 گنا زیادہ داموں میں پہلی بات تو یہ کہ گندم ایکسپورٹ کیوں کی گئی کیا گندم ہماری ضروریات سے زیادہ تھی کیا؟ اگر گندم زیادہ تھی تو آج گندم کی قلت کیوں ہے۔آج عوام آٹے کے لیے کیوں رو رہی ہے۔ کون ذمہ دار ہے اس کا۔ کیوں اس مسئلہ کا حل نہیں نکالا جا رہانئی حکومت بھی آنکھیں بند کئے چپ بیٹھی ہے۔

بجلی ایک اور بڑا مسئلہ جس سے آجکل ہمارا ملک دوچار ہے۔اس نے ہمارے ملک کی انڈسٹری تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔ مگر واپڈا کی صرف ۱ گندی پالیسی کے خاتمے سے ےہ سب حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں مگر واپڈا اپنی ےہ پالیسی بدلنے کو تےار نہیں۔ اور وہ پالیسی ہے کہ واپڈا کے علاوہ کوئی بھی کمپنی بجلی ڈاریکٹ نہیں دے سکتا۔صرف بجلی پر اجارہ داری رکھنے کےلئے ملک کو داﺅ پر لگا رکھا ہے۔اگر آج ےہ پالیسی ختم کر دی جائے تو بہت سی کمپنیاں ہیں جو بجلی کے پراجیکٹس لگانے کو تےار بیٹھی ہیں۔ لوڈ شیڈنگ سے جہاں انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی گرمی سے مر رہی ہے ۔اتنی شدید گرمی اور اس سے بھی شدید لوڈشیڈنگ متبادل زرائع یو- پی۔ایس اور جنریٹرز کی قیمتیں 3 سے 4گنا بڑھ چکی ہیں۔ جو کہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہیں ۔ عوام زہنی تناﺅ کا شکار ہے۔

ٹیکسز میں اضافہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ مگر وہ ٹیکسز جو ہم لوگ دیتے ہیں وہ کہاں جا رہے ہیں اگر اتنے ٹیکس لینے کے باوجود بھی یہ حالات ہیں تو اس کا کون ذمہ دار ہے پاکستانی عوام کا پیسہ جو وہ ہر چیز (بل،خریدوفروخت وغیرہ ) پہ بھرتے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں ہے کیونکہ یہ سارا پیسہ حکومت کی عیاشیوں پر لگتا ہے۔

رائل پالم جو کہ ایک عیاشی کا اڈہ ہے اس کی زمیں 180 روپے مرلہ میں بیچی گئی ۔ اتنی مہنگی زمیں اور وہ بھی اس مھنگے دور میں اتنے سستے داموں بکی ۔ جبکہ ایک عام سی زمیں لاکھ دو لاکھ مرلہ سے کم پر نہیں بکتی ۔ مگر اس چیز کو کسی نے چیک نہیں کیا - یہاں سوال یہ ہے کہ یہ سہولیات سب کو میسر کیوں نہیں۔ کیوں ایک غریب آدمی اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی سے اپنے لےئے ایک چھت نہیں لے سکتا اور کیوں حکومتی باشندے ہمارے خون پسینے کی کمائی سے عیاشی پہ عیاشی کر رہے ہیں

ایک حکومت آتی ہے شروع میں وعدے کرتی ہے کہ مہنگائی ختم ہو گی عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔ اور یہ سب ہوتا بھی ہے مگر عام عوام کے لئے نہیں بلکہ اس حکومت کے کچھ خاص کارکنان کا۔ یا پھر معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے ان کا جو عوام کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔اور ہماری عوام کا یہ حال ہے کہ احتجاج تک نہیں کر رہی ۔

ایک ملک میں رعایا کبھی اپنے بادشاہ کے پاس کبھی کوئی شکایت لے کر نہیں جاتی تھی۔ بادشاہ اس چیز سے ناخوش تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی رعایا اس کے پاس شکایات لے کر آئے اور وہ انصاف کرے۔ اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ کچھ ایسا کرو کہ لوگ اس کے پاس آئیں۔ وزیر نے کہا کہ ٹیکس لگا دیے جائیں ۔ رعایا ٹیکس سے پریشان ہو کر ختم کرانے کے لیئے آپ کے پاس آئے گی۔ ٹیکس لگا دیا گےا مگر کوئی بادشاہ کے پاس نہ آیا لوگ چپ چاپ ٹیکس بھرنے لگے۔ بادشاہ نے پھر وزیر سے بات کی تو اس نے ٹیکس دوگنا کرنے کا مشورہ دیا ۔ ٹیکس بڑھا دیے گئے ۔ مگر تب بھی بادشاہ کے پاس فرےاد لے کرکوئی نہ آےا اور دوگنا ٹیکس بھرتے رہے۔بادشاہ نے وزیر کو غصّے سے کچھ اور ترکیب کرنے کا کہا۔ اس بار جو ترکیب لڑائی گئی وہ ےہ تھی کہ شہر میں داخلے پر ہر شخص ٹول ٹیکس بھرے گا اور ساتھ میں 3 جوتے بھی کھائے گا۔ اس کے کچھ دنوں بعد کچھ لوگ بادشاہ کے دربا ر میں پہنچ گئے ۔ بادشاہ بہت خوش کہ آج لوگ اس کے پاس اپنے مسئلے کا حل مانگنے آئے ہیں ۔ اس نے آنے والوں سے پوچھا کہ بتاﺅ کےا مسئلہ ہے تم لوگوں کو توانہوں نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے جوتے مارنے کے لیے جو لوگ رکھے ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں ہمیں بہت انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ہماری درخواست ےہ ہے کہ جوتا مارنے والے آدمی بڑھائے جائیں۔

آج ہماری قوم کا ےہ حال ہو چکا ہے۔اور کسی میں ہمت نہیں ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھا سکے۔ ہمیں بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں الجھا کر ترقی کے راستوں سے دور کر دیا گیا ہے۔


Read more...