سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے اعلان کیا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد پیڑول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سپریم کورٹ بار کی طرف سے درخواست دائر کی جائے گی۔
نہ جج بحال ہوں گے نہ ہی تم لوگ کچھ کر سکو گے ہاں یہ ضرور ہو گا کہ تمہاری اس لڑائی میں غریب عوام ضرور ماری جائے گی بلکہ ماری جا رہی ہے۔ تم لوگ اگر اپنا چھوڑ کر عوام کے حقوق کے لیے لڑو تو وہ تمہارے لیے بھی بہتر ہو گا اور تم لوگ یہ دیکھ چکے ہو کے جب عوام کے لیے نکلے تھے تب عوام بھی تمہارے ساتھ تھی اور اپنی جانیں بھی دی تھی اور جب سے تم نے صرف اپنی ذاتی لڑائی شروع کی ہے عوام تمہارے لیے نہیں نکلی۔ حقیقت کو دیکھو اور حقیقت کی طرف چلو ۔ عوام کا حال اچھا کر دو عوام خود ان کتوں کو نکال کے تمہں بحال کر دے گی ۔ لوگوں کو پیٹ بھرنے کی دوڑ میں لگا کے تم سب بھی اکیلے ہو گئے ہو
جمہوریت کسی صورت پٹری سے اترنے نہیں دیں گے - نواز شریف
نواز شریف کچھ عوام کا بھی سوچو جو نعرے لے کے تم پاکستان آئے تھے وہ دم توڑ چکے ہیں تم لوگوں کی آپس کی ہٹ دھرمی اور آپسی لڑائی کی وجہ سے آج عوام کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اپنی آپسی اور طاقت کی لڑایوں کو ختم کرو اور ملک کے لیے لڑو۔ آج ہر چیز کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے اور تم بیان پہ بیان دے رہے ہو کہ جمہوریت کسی صورت پٹری سے اترنے نہیں دیں گے ہی جمہوریت کس کے لیے ہے کیا یہ تمہاری اپنی ذات کے لیے ہے یا عوام کے لیے ہے
یہ جمہوریت عوام کے لیے ہے پہلے عوام کو مظبوط اور طاقت ور کرو تو جمہوریت کبھی بھی پٹری سے نہیں اترے گی
حکومت ِپاکستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان کیا ہے اور ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت اب 86.66 روپے ہو گئی ہے۔
حکومت اس بھاری اضافے کا اثر جو عوام پہ ہو گا یا ہو چکا ہے اس کو نہیں سمجھ سکتی کیونکہ حکومت نے کبھی پٹرول خود اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے نہیں لیا اور نہ ہیں پٹرول کا خرچ ان کے کھاتوں سے جاتا ہے یہ تو ہم لوگوں کی جیبوں سے جاتا ہے ۔ وہ کیا کہتے ہیں
جب تک یہ سلسہ چلتا رہے گا ہمارے ملک سے مہنگائی کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔ مہنگائی کو روکنے کے لئے پہلے حکومت کی مفت خوری روکنا ہو گی
پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ گرمی سے پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟
لوڈ شیڈنگ ہو یا مہنگائی صرف درمیانہ طبقہ اور غریب آدمی کے لیے ہے ۔ اس لیے اب اس طرح کے سوال کر کے اپنے الفاظ ضائع کرنے والی بات ہے ۔ مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ خود حکومت کے پاس اس کا جواب نہیں ہے
Read more...