ججوں کی بحالی یا عوام کی بے حالی
ہم یہ نہیں جانتے کہ جج بحال ہوتے ہیں کہ نہیں مگر عوام بے حال ضرور ہو رہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت لگتا ہے اپنا 5 سالہ دور صرف ججز کی بحالی میں صرف کرنا چاھتی ہے۔ اور ملک کے حالات کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ مھنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوئی پالیسی نہیں بن رہی۔ سارا زور صرف جج بحال کرنے میں لگا رہے ہیں اور جن لوگوں(عوام) نے ملک کی ترقی کے لیے محنت کرنا ہوتی ہے اس کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا۔ کن ججز کی بحالی کی بات ہو رہی ہے یہ وہی ہیں جن کی عدالتوں میں کیس سال ہا سال چلتے ہیں ایک غریب آدمی ساری زندگی انصاف کے لئے گزار دیتا ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا اور تو اور بہت سے لوگوں کے کیسز کی باری ان کے مرنے کے بعد آتی ہے۔
اے ہمارے حکمرانو! اپنی سوچ تم نے چند ججز کی بحالی پہ لگا رکھی ہے۔ مگرعوام بد حال ہو رہی ہے۔ بدحال عوام کو انصاف نہیں مل رہا اس کا بھی کچھ سوچو۔ جس عوام کے پیٹ کو انصاف نہیں ملے گا اس کے لئے ان ججوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔
ہم یہ نہیں جانتے کہ جج بحال ہوتے ہیں کہ نہیں مگر عوام بے حال ضرور ہو رہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت لگتا ہے اپنا 5 سالہ دور صرف ججز کی بحالی میں صرف کرنا چاھتی ہے۔ اور ملک کے حالات کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ مھنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوئی پالیسی نہیں بن رہی۔ سارا زور صرف جج بحال کرنے میں لگا رہے ہیں اور جن لوگوں(عوام) نے ملک کی ترقی کے لیے محنت کرنا ہوتی ہے اس کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا۔ کن ججز کی بحالی کی بات ہو رہی ہے یہ وہی ہیں جن کی عدالتوں میں کیس سال ہا سال چلتے ہیں ایک غریب آدمی ساری زندگی انصاف کے لئے گزار دیتا ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا اور تو اور بہت سے لوگوں کے کیسز کی باری ان کے مرنے کے بعد آتی ہے۔
اے ہمارے حکمرانو! اپنی سوچ تم نے چند ججز کی بحالی پہ لگا رکھی ہے۔ مگرعوام بد حال ہو رہی ہے۔ بدحال عوام کو انصاف نہیں مل رہا اس کا بھی کچھ سوچو۔ جس عوام کے پیٹ کو انصاف نہیں ملے گا اس کے لئے ان ججوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔
مہنگائی ختم کرو اے حکمرانو مہنگائی ختم کرو نہیں تو اقتدار چھوڑ دو
No comments:
Post a Comment