Tuesday, November 4, 2008

:) :)













وزرا نے حلف تو اٹھا لیا ھے مگر حلف کس بات کا اٹھایا ھے یھ نہیں پتہ
اب حکومت کو چاھیے کہ وزرا کے ساتھ ساتھ کچھ کام کرنے والے بھی رکھ لیے جایئں

:) :) :) :)

Read more...

Thursday, October 16, 2008

عالمی منڈی اور پاکستان






جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی تو بغیر کسی دیر کے پاکستان میں بہھی پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گیئیں اور سبسڈی بھی ختم کر دی گئی اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ھماری گورنمٹ نے۔
اور اب جب عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ لیول تک کم ھو رھی ہیں تو اب کیوں دیر ھو رھی ہے
عوام کو لوٹنے میں ابھی کچھ کمی ہے کیا۔ لگتا ھے زرداری ، گیلانی اور پیپلز پارٹی کے دوسرے ارکان عوام کو بے حال بد حال اور کسی ناقابل چھوڑنے کا مشن لے کر آئے ہیں

Read more...

Tuesday, October 14, 2008

ملک کا سوچو

بیانات ھی بیانات
کوئی عملی کام نہیں ھو رھا
وزیر اعظم اور صدر دورے کر رھے ھیں اور دعوتیں کھا رھے ہیں
اور تفریح کرتے ھوے اور کھاتے ھوے جو الفاظ ان کے منھ سے نکلتے ھیں
وہ اگلے دن اخباروں کی بڑی بڑی سرخیاں بن کے ھمارے سامنے آ جاتا ھے
وزیر اعظم اور صدر سے گذارش ھے کہ اپنی ذمہ داریوں کا کسی سے پوچھیں اور ان کو پورا بھی کریں


Read more...

Saturday, September 13, 2008

لڑ نہیں سکتے





لڑ نہیں سکتے تو کتو تم کرنے کیا بیٹھے , تم لوگ کس خودمختاری کی بات کرتے ہو۔ بھیک میں خود مختاری نہیں ملتی۔

ہمیں امریکہ سے بھیک نہیں مانگنی اور پاکستان کسی کتے کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ کوئی بھی آئے اور ٹانگ اٹھا کے پیشاب کر کے چلا جائے


زرداری خاموش بیٹھا ہے لگتا ہے اس نے پاکستان کو % 100 پر امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں سونپ دیا ہے ۔


Read more...

Monday, September 8, 2008

'Mr Ten Percent' is the new Pakistani president

Pakistan's new president Asif Ali Zardari was once so tainted by corruption allegations that he acquired the nickname "Mr Ten Percent" among his countrymen and beyond.

But the judicial charges and political battles that saw Benazir Bhutto's widower spend 11 years in jail had no bearing on today's presidential election, and an amnesty last year cleared him of remaining charges.

A secret ballot of the country's two houses of parliament and four provincial assemblies saw Zardari succeed Pervez Musharraf, who was forced to resign last month under threat of impeachment.

Zardari's life journey has taken him from playboy to villain to political heir of the revered Bhutto, whose image still casts a shadow over daily life here nine months after her assassination.

Among the 168 million people of nuclear-armed Pakistan, however, there are doubts over Zardari's suitability for a role that would allow him to dismiss governments and appoint leaders of the country's powerful military.

"Mr. Zardari has a controversial reputation. He has been charged, among other things, with corruption, extortion and murder," Shafqat Mahmood, a former MP and now political analyst, told AFP ahead of today's vote.

"In the minds of many, he is neither clean nor innocent, and this is a huge drawback in his being a candidate for the highest office in the land."

Nor has Zardari overcome the view that he was heavily responsible for the ills that befell his wife as prime minister.

The 53-year-old has always maintained the cases against him were politically motivated, and none were proven.

When he married into the Bhutto dynasty in 1987, Zardari was the little-known scion of a land-owning polo-playing family from southern Sindh province.

But he quickly carved out a powerful position for himself as a government minister, taking a keen interest in the finance and environmental portfolios.

He was among the first people arrested when his wife's governments were thrown out of office, in what remains an uncomfortable reminder of his notoriety.

The first time, in 1990, he spent three years in jail before rejoining Bhutto's second administration. But he was back behind bars within half an hour of that government's dismissal in 1996.

Zardari then spent eight years in jail -- five of them while his family lived in exile -- before being freed in November 2004 after being cleared over the last of 17 cases of corruption, murder and drug smuggling.


Read more...

Friday, August 15, 2008

Musharaf and Israil


Read more...

Thursday, August 7, 2008

Mehngai


Read more...

Aatay ka Bohraan



Read more...

Wednesday, August 6, 2008

Load Shading


Read more...

Tuesday, July 22, 2008

لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی اور جج

ججوں کی بحالی کے بعد مہنگائی کے خلاف پٹیشن دائر کرینگے ۔ اعتزاز حسین
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے اعلان کیا ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے بعد پیڑول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سپریم کورٹ بار کی طرف سے درخواست دائر کی جائے گی۔


نہ جج بحال ہوں گے نہ ہی تم لوگ کچھ کر سکو گے ہاں یہ ضرور ہو گا کہ تمہاری اس لڑائی میں غریب عوام ضرور ماری جائے گی بلکہ ماری جا رہی ہے۔ تم لوگ اگر اپنا چھوڑ کر عوام کے حقوق کے لیے لڑو تو وہ تمہارے لیے بھی بہتر ہو گا اور تم لوگ یہ دیکھ چکے ہو کے جب عوام کے لیے نکلے تھے تب عوام بھی تمہارے ساتھ تھی اور اپنی جانیں بھی دی تھی اور جب سے تم نے صرف اپنی ذاتی لڑائی شروع کی ہے عوام تمہارے لیے نہیں نکلی۔ حقیقت کو دیکھو اور حقیقت کی طرف چلو ۔ عوام کا حال اچھا کر دو عوام خود ان کتوں کو نکال کے تمہں بحال کر دے گی ۔ لوگوں کو پیٹ بھرنے کی دوڑ میں لگا کے تم سب بھی اکیلے ہو گئے ہو


جمہوریت کسی صورت پٹری سے اترنے نہیں دیں گے - نواز شریف

نواز شریف کچھ عوام کا بھی سوچو جو نعرے لے کے تم پاکستان آئے تھے وہ دم توڑ چکے ہیں تم لوگوں کی آپس کی ہٹ دھرمی اور آپسی لڑائی کی وجہ سے آج عوام کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اپنی آپسی اور طاقت کی لڑایوں کو ختم کرو اور ملک کے لیے لڑو۔ آج ہر چیز کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے اور تم بیان پہ بیان دے رہے ہو کہ جمہوریت کسی صورت پٹری سے اترنے نہیں دیں گے ہی جمہوریت کس کے لیے ہے کیا یہ تمہاری اپنی ذات کے لیے ہے یا عوام کے لیے ہے
یہ جمہوریت عوام کے لیے ہے پہلے عوام کو مظبوط اور طاقت ور کرو تو جمہوریت کبھی بھی پٹری سے نہیں اترے گی



حکومت ِپاکستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان کیا ہے اور ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت اب 86.66 روپے ہو گئی ہے۔

حکومت اس بھاری اضافے کا اثر جو عوام پہ ہو گا یا ہو چکا ہے اس کو نہیں سمجھ سکتی کیونکہ حکومت نے کبھی پٹرول خود اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے نہیں لیا اور نہ ہیں پٹرول کا خرچ ان کے کھاتوں سے جاتا ہے یہ تو ہم لوگوں کی جیبوں سے جاتا ہے ۔ وہ کیا کہتے ہیں

“مالِ مفت دلِ بے رحم“

جب تک یہ سلسہ چلتا رہے گا ہمارے ملک سے مہنگائی کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔ مہنگائی کو روکنے کے لئے پہلے حکومت کی مفت خوری روکنا ہو گی




پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ گرمی سے پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟

لوڈ شیڈنگ ہو یا مہنگائی صرف درمیانہ طبقہ اور غریب آدمی کے لیے ہے ۔ اس لیے اب اس طرح کے سوال کر کے اپنے الفاظ ضائع کرنے والی بات ہے ۔ مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ خود حکومت کے پاس اس کا جواب نہیں ہے

Read more...

Monday, July 21, 2008

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی -- حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں؟

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں نو عمر طالب علموں کے معصوم سوالوں کے جواب دینا شروع کیے تو بات آٹے دال کے بھاؤ تک جا پہنچی۔

نظریہ پاکستان ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے سکول کی تقریب میں مسٹر گیلانی نے ایک بچے کے اس سیدھے سادے سوال کے جواب میں کہ وہ اتنی کم عمر میں وزیر اعظم کیسے بن گئے، پوچھا کہ کیا وہ آٹا مہنگا ہونے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟

وزیراعظم کے اس جواب کے بعد مائیک بند کردیا گیا۔ سٹیج پر موجود ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد نے برجستہ کہا کہ نہیں جبکہ حاضرین پہلے حیران ہوئے پھر مسکرانے لگے۔ وزیر اعظم کے اے ڈی سی نے ان کےکان میں کچھ کہا جس کے بعد وزیر اعظم نے بات سنبھالی اور کہا کہ وہ دراصل اشارہ دے رہے تھے کہ بچے کیا سوال پوچھیں۔

اگلا سوال ایک بچے نےمہنگائی کے بارے میں ہی پوچھ لیا جس کے جواب میں وزیر اعظم نے الٹا بچوں سےمہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی پوچھی۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مہنگائی کے خاتمے کے لیے اقدمات کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا مہنگائی کا شکار ہے اور خوراک کی وجہ سے ہنگامہ آرائی اور فسادات ہو رہے ہیں۔

ایک بچی افشاں زاہد کےسوال پر حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ اس بچی نے پوچھا تھا کہ پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ گرمی سے پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟

وزیر اعظم نے بجلی کے معاملے میں عدم مساوات کی وضاحت تو نہیں کی البتہ بچوں کو یہ یقین دلایا کہ اگلے برس تک لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔


Read more...

Saturday, June 21, 2008

لوڈ شیڈنگ

پاکستان کی عوام بجلی کے اس گندے نظام کی وجہ سے بے حال ہو چکی ہے۔ آج یہ وقت آ گیا ہے کہ عورتیں آدھی رات کو اپنے بچوںکو لے کر گھروں کے دروازوں پر بیٹھی بجلی کے آنے کا انتظار کر رہی ہورتی ہیں۔ کیا ہماری حکومت اور اس کے چمچوں کی عورتیں بھی اسی طرح سے گلیوں میں بیٹھ کے بجلی کے آنے کا انتظار کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت صرف عام عوام کو رولا جا رہا ہے 7 سے 8 گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ مگر صرف کچھ علاقوں میں۔ اور بہت سے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر لوگ سکون سے اپنی نیندیں رات کو پوری کرتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر یہ فرق کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read more...
پاکستان کی عوام بجلی کے اس گندے نظام کی وجہ سے بے حال ہو چکی ہے۔ آج یہ وقت آ گیا ہے کہ عورتیں آدھی رات کو اپنے بچوںکو لے کر گھروں کے دروازوں پر بیٹھی بجلی کے آنے کا انتظار کر رہی ہورتی ہیں۔ کیا ہماری حکومت اور اس کے چمچوں کی عورتیں بھی اسی طرح سے گلیوں میں بیٹھ کے بجلی کے آنے کا انتظار کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت صرف عام عوام کو رولا جا رہا ہے 7 سے 8 گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ مگر صرف کچھ علاقوں میں۔ اور بہت سے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر لوگ سکون سے اپنی نیندیں رات کو پوری کرتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر یہ فرق کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read more...

Thursday, June 19, 2008

Wednesday, May 14, 2008

ججوں کی بحالی یا عوام کی بے حالی

ججوں کی بحالی یا عوام کی بے حالی

ہم یہ نہیں جانتے کہ جج بحال ہوتے ہیں کہ نہیں مگر عوام بے حال ضرور ہو رہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت لگتا ہے اپنا 5 سالہ دور صرف ججز کی بحالی میں صرف کرنا چاھتی ہے۔ اور ملک کے حالات کا کوئی بھی نہیں سوچ رہا۔ مھنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوئی پالیسی نہیں بن رہی۔ سارا زور صرف جج بحال کرنے میں لگا رہے ہیں اور جن لوگوں(عوام) نے ملک کی ترقی کے لیے محنت کرنا ہوتی ہے اس کے لئے کوئی نہیں سوچ رہا۔ کن ججز کی بحالی کی بات ہو رہی ہے یہ وہی ہیں جن کی عدالتوں میں کیس سال ہا سال چلتے ہیں ایک غریب آدمی ساری زندگی انصاف کے لئے گزار دیتا ہے زندگی ختم ہو جاتی ہے مگر انصاف نہیں ملتا اور تو اور بہت سے لوگوں کے کیسز کی باری ان کے مرنے کے بعد آتی ہے۔

اے ہمارے حکمرانو! اپنی سوچ تم نے چند ججز کی بحالی پہ لگا رکھی ہے۔ مگرعوام بد حال ہو رہی ہے۔ بدحال عوام کو انصاف نہیں مل رہا اس کا بھی کچھ سوچو۔ جس عوام کے پیٹ کو انصاف نہیں ملے گا اس کے لئے ان ججوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

مہنگائی ختم کرو اے حکمرانو مہنگائی ختم کرو نہیں تو اقتدار چھوڑ دو

Read more...

Tuesday, May 6, 2008

ہمارا پاکستان

ہمارا پاکستان

مہنگائی ہمارے ملک میں اژدھے کی طرح غریب عوام کو نگل رہی ہےہماری حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے کسی بھی ملک میں عوام کی بنیادی ضروریات کو چھیڑا نہیں جاتا بلکہ بنیادی ضروریات کو اور بہتر بنایا جاتا ہے۔آج بھی دیکھیں دوسرے ممالک میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی چیزیں باآسانی اور سستی مل جاتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ایک عرصہ دراز سے نہیں ہوا یہ کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں ہیں ۔ یہ آپ سب لوگ اور ہماری حکومت بھی جانتی ہے۔

ایک ہمارا ملک ہے جس میں ہمیں ہماری بنیادی ضروریات پہ ہی مارا جا رہا ہے۔ آٹے کی قلت ۔ ناکس پانی اور اس کی بھی کمی۔گیس پرابلم کمیونیکیشن مہنگی بجلی کا مسئلہ ٹیکسز ہر چیز میں 50 سے 80 فیصد لاگو ہوتے ہیں ۔ ان سب کے باوجود ہمارا معیارِ زندگی روز بروز گرتا جا رہا ہے۔

ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اور آج ہمارے ہی ملک میں آٹا ملنا مشکل ہے۔ گندم کا سٹاک کر لیاگیا۔ اور کہاگیا کہ گندم ایکسپورٹ کر دی گئی ہے۔ اور پھر وہی گندم سٹاک سے نکال کر یہ بتایا جاتا ہے کہ گندم خریدی گئی ہے اور وہ بھی 5 گنا زیادہ داموں میں پہلی بات تو یہ کہ گندم ایکسپورٹ کیوں کی گئی کیا گندم ہماری ضروریات سے زیادہ تھی کیا؟ اگر گندم زیادہ تھی تو آج گندم کی قلت کیوں ہے۔آج عوام آٹے کے لیے کیوں رو رہی ہے۔ کون ذمہ دار ہے اس کا۔ کیوں اس مسئلہ کا حل نہیں نکالا جا رہانئی حکومت بھی آنکھیں بند کئے چپ بیٹھی ہے۔

بجلی ایک اور بڑا مسئلہ جس سے آجکل ہمارا ملک دوچار ہے۔اس نے ہمارے ملک کی انڈسٹری تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ لوگ پریشان ہیں۔ مگر واپڈا کی صرف ۱ گندی پالیسی کے خاتمے سے ےہ سب حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں مگر واپڈا اپنی ےہ پالیسی بدلنے کو تےار نہیں۔ اور وہ پالیسی ہے کہ واپڈا کے علاوہ کوئی بھی کمپنی بجلی ڈاریکٹ نہیں دے سکتا۔صرف بجلی پر اجارہ داری رکھنے کےلئے ملک کو داﺅ پر لگا رکھا ہے۔اگر آج ےہ پالیسی ختم کر دی جائے تو بہت سی کمپنیاں ہیں جو بجلی کے پراجیکٹس لگانے کو تےار بیٹھی ہیں۔ لوڈ شیڈنگ سے جہاں انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی گرمی سے مر رہی ہے ۔اتنی شدید گرمی اور اس سے بھی شدید لوڈشیڈنگ متبادل زرائع یو- پی۔ایس اور جنریٹرز کی قیمتیں 3 سے 4گنا بڑھ چکی ہیں۔ جو کہ ایک عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہیں ۔ عوام زہنی تناﺅ کا شکار ہے۔

ٹیکسز میں اضافہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ مگر وہ ٹیکسز جو ہم لوگ دیتے ہیں وہ کہاں جا رہے ہیں اگر اتنے ٹیکس لینے کے باوجود بھی یہ حالات ہیں تو اس کا کون ذمہ دار ہے پاکستانی عوام کا پیسہ جو وہ ہر چیز (بل،خریدوفروخت وغیرہ ) پہ بھرتے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں ہے کیونکہ یہ سارا پیسہ حکومت کی عیاشیوں پر لگتا ہے۔

رائل پالم جو کہ ایک عیاشی کا اڈہ ہے اس کی زمیں 180 روپے مرلہ میں بیچی گئی ۔ اتنی مہنگی زمیں اور وہ بھی اس مھنگے دور میں اتنے سستے داموں بکی ۔ جبکہ ایک عام سی زمیں لاکھ دو لاکھ مرلہ سے کم پر نہیں بکتی ۔ مگر اس چیز کو کسی نے چیک نہیں کیا - یہاں سوال یہ ہے کہ یہ سہولیات سب کو میسر کیوں نہیں۔ کیوں ایک غریب آدمی اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی سے اپنے لےئے ایک چھت نہیں لے سکتا اور کیوں حکومتی باشندے ہمارے خون پسینے کی کمائی سے عیاشی پہ عیاشی کر رہے ہیں

ایک حکومت آتی ہے شروع میں وعدے کرتی ہے کہ مہنگائی ختم ہو گی عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔ اور یہ سب ہوتا بھی ہے مگر عام عوام کے لئے نہیں بلکہ اس حکومت کے کچھ خاص کارکنان کا۔ یا پھر معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے ان کا جو عوام کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔اور ہماری عوام کا یہ حال ہے کہ احتجاج تک نہیں کر رہی ۔

ایک ملک میں رعایا کبھی اپنے بادشاہ کے پاس کبھی کوئی شکایت لے کر نہیں جاتی تھی۔ بادشاہ اس چیز سے ناخوش تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی رعایا اس کے پاس شکایات لے کر آئے اور وہ انصاف کرے۔ اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ کچھ ایسا کرو کہ لوگ اس کے پاس آئیں۔ وزیر نے کہا کہ ٹیکس لگا دیے جائیں ۔ رعایا ٹیکس سے پریشان ہو کر ختم کرانے کے لیئے آپ کے پاس آئے گی۔ ٹیکس لگا دیا گےا مگر کوئی بادشاہ کے پاس نہ آیا لوگ چپ چاپ ٹیکس بھرنے لگے۔ بادشاہ نے پھر وزیر سے بات کی تو اس نے ٹیکس دوگنا کرنے کا مشورہ دیا ۔ ٹیکس بڑھا دیے گئے ۔ مگر تب بھی بادشاہ کے پاس فرےاد لے کرکوئی نہ آےا اور دوگنا ٹیکس بھرتے رہے۔بادشاہ نے وزیر کو غصّے سے کچھ اور ترکیب کرنے کا کہا۔ اس بار جو ترکیب لڑائی گئی وہ ےہ تھی کہ شہر میں داخلے پر ہر شخص ٹول ٹیکس بھرے گا اور ساتھ میں 3 جوتے بھی کھائے گا۔ اس کے کچھ دنوں بعد کچھ لوگ بادشاہ کے دربا ر میں پہنچ گئے ۔ بادشاہ بہت خوش کہ آج لوگ اس کے پاس اپنے مسئلے کا حل مانگنے آئے ہیں ۔ اس نے آنے والوں سے پوچھا کہ بتاﺅ کےا مسئلہ ہے تم لوگوں کو توانہوں نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے جوتے مارنے کے لیے جو لوگ رکھے ہیں وہ بہت تھوڑے ہیں ہمیں بہت انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ہماری درخواست ےہ ہے کہ جوتا مارنے والے آدمی بڑھائے جائیں۔

آج ہماری قوم کا ےہ حال ہو چکا ہے۔اور کسی میں ہمت نہیں ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھا سکے۔ ہمیں بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں الجھا کر ترقی کے راستوں سے دور کر دیا گیا ہے۔


Read more...

Monday, April 21, 2008

پاکستان پاکستان پاکستان Pakistan Pakistan Pakistan

پاکستان میں واپڈا اور لیسکو جس بخوبی سے اپنا کردار باقاعدگی اور ایمانداری سے کر رہے ہیں مطلب لوڈ شیڈنگ بڑی ایمانداری سے ہو رہی ہے اور بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں میں باقاعدگی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے گھٹیا سسٹم اور سٹاف کے ساتھ رواں دواں ہے۔

دوسرے نمبر پر آ رہی ھے ہماری ٹریفک پولیس۔ یہ لوگ بھی بڑی ایمانداری سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوے بے ڈھنگے سسٹم کی بنیاد پہ چالان پر چالان کر رہے ہیں

اسی طرح سے باقی سب لوگ اپنا کام ایماندری سے کرتے ہوے ملک و قوم کی قمر توڑ رہے ہیں

قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ حکومت آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہے

آخر یہ سب کب تک چلے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


Read more...

Monday, March 10, 2008

حکومت کے خلاف ساز

لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں دھماکے ہوئے ہیں جن میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

لاہور کی مصروف شاہراہ مال روڈ کے قریب ایف آئی اے کے دفتر میں دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس دفتر میں دو دھماکے ہوئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے اس بارے میں فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔

دوسرا دھماکہ ماڈل ٹاؤن میں بلاول ہاوس کےقریب ایڈورٹائیزنگ سے وابستہ ایک دفتر کے قریب ہوا۔ اس دھماکہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ کئی کلو میٹر دور تک ان کی آوازیں سنی گئی اور درجنوں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ایک نجی ٹیلی وژن کے مطابق ایف آئی اے کی آٹھ منزلہ عمارت دھماکوں سے تباہ ہوگئی جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان دھماکوں میں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اور امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔

چار مارچ کو لاہور ہی میں اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔



ان بم دھماکوں کا آخر کیا مقصد ہے

کون لوگ ہیں اس کے پیچھے

کیا یہ آنے والی حکومت کے خلاف سازش ہے



Read more...

Pakistan Traffic Police

This is a good achievement for Pakistan but for the Roads government should have take the decision because these roads break our speeds, increasing our travel timings and decreasing the life of our vehicles. We are regular tax payers and this is our need to maintain the roads on which our vehicles run for the long life and good health of vehicles.

And the signal timings are also not good. Govt. should have to remake it. Because mostly it happened on the one road have 3 or 4 signals there we have to face stop every signal which is not good for us.

Service Roads are just for name we should have to change the name its name should be PARKING or MARKET PLACE. Now most service roads are using for parking and shopkeepers are using service roads for market there things.

We lose our most of time because of these hurdles SIGNAL, BROKEN ROADS and MISS USE OF SERVICE ROADS.

These are our Right and we couldn’t get these. So give us our rights and then get TAX and do CHALANS. And without improving your conditions you don’t have rights of CHALANS and TAXES.
Read more...

Petrol prices in Pakistan increased by Rs.5 per litre

The government on 1st of March, announced an increase in petrol prices by Rs.5 per litre. Public is not going to welcome this increase, but there are no surprises.

This price hike was long due, as the government was holding back the petrol prices in Pakistan for quite a long time now. Oil prices in the international market were climbing up for the past several months, however, the government of Pakistan did not pass on the rise in prices to the general public mainly due to the upcoming elections.

This has been a trend in Pakistan that nearing the election period, the ruling party holds backall sorts of price increases in the hope that the public would appreciate the efforts to lower the commodity prices and re-elect the ruling party. However, once the elections are over and the party is re-elected with majorty votes, it would have a free hand for another 5 years to play with prices hikes.

On the other hand, if for some reason, the ruling party is not re-elected, the new government would be left with no choice but to raise the prices and held responsible for the act of agonizing the public.

This is exactly what has happened this time around as well. The rise in petrol prices was long awaited and has eventually come out to haunt us. The point for the public to note is that this has nothing to do with the new government (which has not even be offcially formed as yet) and is due to the price control strategy followed by the previous government. This increase however, is just a fraction of what is actually aimed and more increase in prices will be coming soon. So stay put and see what more is coming our way !


Read more...

Monday, February 25, 2008

پاکستان میں حکومت کون بنائے گا؟

پاکستان میں حکومت کون بنائے گا؟

پاکستانی انتخابات میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حامی جماعت مسلم لیگ ق کو شکست ہوئی ہے جب کہ مسلم لیگ ن جس کی حکومت کا تختہ الٹ کر پرویز مشرف اقتدار میں آئے تھے، پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں پی پی پی کو اکثریت ملی ہے۔ اسی طرح صوبہِ سرحد میں عوام کی اکثریت نے ایم ایم اے کو مسترد کر کے اے این پی کا انتخاب کیا ہے جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم ہی کو ووٹ ملے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کو مرکزی حکومت کے لیے بھاری اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ نواز، پی پی مخلوط حکومت پر اتفاق
اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ آگے کیا ہوگا؟ کیا اس سے صدر مشرف کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوجائیں گی؟ کیا ان انتخابات کے بعد آپ پرامید ہیں کہ پاکستان میں ایک مستحکم جمہوری عمل پروان چڑھے گا؟


Read more...

Monday, February 18, 2008

Pakistan Election Result 2008


Read more...

Thursday, January 10, 2008

پاکستان میں آٹے کی قلت

پاکستان میں آٹے کی قلت 2 ماہ سے جاری ھے ابھی تک اس بحران پہ قابو نہیں پایا جا رہا۔
دکاندار اپنی مرضی کی قیمت پہ آٹا فروخت کر رہے ہیں۔
کون اس کو کنٹرول کرے گا۔ حکومت آنکھیں بند کر کے کیوں بیٹھی ہے۔


Read more...

Wednesday, January 9, 2008

GPO Bomb Blast-جی پی او بم دھماکہ

جی پی او بم دھماکہ

20 افراد ہلاک

بم دھماکہ 1 موٹر سائیکل سوار نے کیا - یا - گاڑی میں ھوا - یا - پیدل چلنے والے نے کیا

3 مختلف بیانات

مرنے والوں کے لئے 3 لاکھ اور زخمیوں کے لئے 1 لاکھ روپے ( کیایہ رقم پسماندگان کے زخم بھر دے گی۔)

اس دھماکہ کا مقصد کیا ھے۔

Read more...