Monday, July 21, 2008

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی -- حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں؟

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لاہور میں نو عمر طالب علموں کے معصوم سوالوں کے جواب دینا شروع کیے تو بات آٹے دال کے بھاؤ تک جا پہنچی۔

نظریہ پاکستان ٹرسٹ فاؤنڈیشن کے سکول کی تقریب میں مسٹر گیلانی نے ایک بچے کے اس سیدھے سادے سوال کے جواب میں کہ وہ اتنی کم عمر میں وزیر اعظم کیسے بن گئے، پوچھا کہ کیا وہ آٹا مہنگا ہونے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟

وزیراعظم کے اس جواب کے بعد مائیک بند کردیا گیا۔ سٹیج پر موجود ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد نے برجستہ کہا کہ نہیں جبکہ حاضرین پہلے حیران ہوئے پھر مسکرانے لگے۔ وزیر اعظم کے اے ڈی سی نے ان کےکان میں کچھ کہا جس کے بعد وزیر اعظم نے بات سنبھالی اور کہا کہ وہ دراصل اشارہ دے رہے تھے کہ بچے کیا سوال پوچھیں۔

اگلا سوال ایک بچے نےمہنگائی کے بارے میں ہی پوچھ لیا جس کے جواب میں وزیر اعظم نے الٹا بچوں سےمہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی پوچھی۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت مہنگائی کے خاتمے کے لیے اقدمات کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا مہنگائی کا شکار ہے اور خوراک کی وجہ سے ہنگامہ آرائی اور فسادات ہو رہے ہیں۔

ایک بچی افشاں زاہد کےسوال پر حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ اس بچی نے پوچھا تھا کہ پورے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور لوگ گرمی سے پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا؟

وزیر اعظم نے بجلی کے معاملے میں عدم مساوات کی وضاحت تو نہیں کی البتہ بچوں کو یہ یقین دلایا کہ اگلے برس تک لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔

No comments: